حج کی مسنون دعاؤں کی راہنما
مفرد حاجی کے لیے — آٹھ ذی الحجہ سے
تمام دعائیں اور اذکار قرآن کریم اور صحیح سنت نبوی ﷺ سے ماخوذ ہیں
میقات یا مکہ سے احرام باندھیں اور نیت کریں:
لبيك اللهم حجاً
“اے اللہ! میں حج کے لیے حاضر ہوں”
📖 صحیح مسلم — کتاب الحج، حدیث نمبر ۱۲۱۱
پھر بلند آواز سے تلبیہ پڑھیں:
لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك والملك، لا شريك لك
“میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں۔ تیرا کوئی شریک نہیں، حمد، نعمت اور ملک تیرا ہی ہے، تیرا کوئی شریک نہیں”
📖 صحیح البخاری نمبر ۱۵۴۹ اور صحیح مسلم نمبر ۱۱۸۴
♦ سنت: تلبیہ احرام سے جمرہ عقبہ کی پہلی کنکری تک مسلسل پڑھتے رہیں — چلتے، بیٹھتے، سواری پر ہر حال میں۔
مسجد حرام میں داخل ہوتے وقت دائیں قدم سے داخل ہوں اور یہ دعا پڑھیں:
بسم الله، والصلاة والسلام على رسول الله، اللهم افتح لي أبواب رحمتك
“اللہ کے نام سے، نبی ﷺ پر درود و سلام، اے اللہ میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے”
📖 صحیح مسلم نمبر ۷۱۳
ہر چکر کے آغاز میں حجر اسود کے سامنے:
بسم الله، الله أكبر
“اللہ کے نام سے، اللہ سب سے بڑا ہے”
📖 صحیح البخاری — کتاب الحج نمبر ۱۶۱۳
رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان ہر چکر میں:
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
“اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھلائی دے اور آگ کے عذاب سے بچا” (سورۃ البقرہ: ۲۰۱)
📖 سنن ابی داود نمبر ۱۸۹۲
♦ بقیہ چکروں میں: آزادانہ دعا کریں، ذکر اور تلاوت قرآن کریں۔ ہر چکر کے لیے کوئی مخصوص دعا سنت سے ثابت نہیں ہے۔
پہلے چکر میں صفا کے قریب پہنچ کر پڑھیں:
إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ
“بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں” (سورۃ البقرہ: ۱۵۸) — صرف پہلی بار صفا پر
📖 صحیح مسلم نمبر ۱۲۱۸
صفا اور مروہ پر کھڑے ہو کر — تین بار پڑھیں، درمیان میں دعا کریں:
لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، لا إله إلا الله وحده، أنجز وعده، ونصر عبده، وهزم الأحزاب وحده
“اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہی اور حمد اسی کے لیے ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے لشکروں کو شکست دی”
📖 صحیح مسلم — کتاب الحج نمبر ۱۲۱۸
نبی ﷺ نے فرمایا: «الحج عرفة» حج عرفہ ہے (سنن ابی داود نمبر ۱۹۴۹)۔ ہاتھ اٹھائیں اور یہ ذکر کثرت سے پڑھیں:
لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير
“اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہی اور حمد اسی کی ہے”
📖 جامع الترمذی نمبر ۳۵۸۵ — نبی ﷺ: “یہ شام عرفہ کی سب سے افضل دعا ہے”
اللهم إني أسألك العفو والعافية في الدنيا والآخرة
“اے اللہ! میں دنیا اور آخرت میں معافی اور عافیت مانگتا ہوں”
📖 سنن ابن ماجہ نمبر ۳۸۴۹ — صحیح
اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت، وما أسررت وما أعلنت
“اے اللہ! میرے اگلے پچھلے، چھپے کھلے گناہ معاف فرما”
📖 صحیح مسلم نمبر ۷۷۱
♦ اہم: عرفہ کی کوئی مخصوص لمبی دعا صحیح سنت سے ثابت نہیں۔ سنت یہ ہے کہ ہاتھ اٹھا کر دل کھول کر دعا کریں۔
عرفہ سے غروب کے بعد مزدلفہ پہنچیں، مغرب و عشاء جمع کریں۔ فجر کے بعد قبلہ رخ ہو کر ذکر و دعا میں مشغول رہیں۔
♦ مزدلفہ میں کوئی مخصوص دعا ثابت نہیں۔ عام ذکر و دعا کریں۔ بزرگ، خواتین اور کمزور نصف رات کے بعد منیٰ جا سکتے ہیں۔
یوم النحر (۱۰ ذی الحجہ) کو جمرہ عقبہ کبریٰ کو سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری کے ساتھ:
الله أكبر
“اللہ سب سے بڑا ہے” — ہر کنکری کے ساتھ کہیں (سات بار)”
📖 صحیح البخاری — کتاب الحج نمبر ۱۷۵۰
♦ سنت: جمرہ عقبہ کی پہلی کنکری کے ساتھ تلبیہ ختم ہو جاتی ہے۔ جمرہ عقبہ کے بعد رک کر دعا نہ کریں۔
چھوٹی اور درمیانی جمرہ کے بعد (۱۱، ۱۲، ۱۳ ذی الحجہ) — قبلہ رخ کھڑے ہو کر دعا کریں:
اللهم اجعله حجاً مبروراً وذنباً مغفوراً وسعياً مشكوراً
“اے اللہ! اسے مقبول حج، معاف گناہ اور مشکور سعی بنا دے”
📖 مستدرک الحاکم ۱/۶۳۲ — صحیح الاسناد
طواف وداع ہر قادر حاجی پر واجب ہے۔ یہ عام طواف کے احکام کے مطابق ہے۔ رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان:
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
“اے ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی دے اور آگ کے عذاب سے بچا” (سورۃ البقرہ: ۲۰۱)
📖 سنن ابی داود نمبر ۱۸۹۲
مسجد حرام سے نکلتے وقت بائیں قدم سے نکلیں اور پڑھیں:
بسم الله والصلاة والسلام على رسول الله، اللهم إني أسألك من فضلك
“اللہ کے نام سے، نبی ﷺ پر درود و سلام، اے اللہ میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں”
📖 صحیح مسلم نمبر ۷۱۳
♦ کعبہ کے سامنے کھڑے ہو کر وداع کی کوئی مخصوص دعا ثابت نہیں۔ ذکر اور درود پڑھ کر روانہ ہوں۔
اللہ آپ کا حج قبول فرمائے، گناہ معاف فرمائے اور خرچ کا بدل عطا فرمائے
«جس نے حج کیا اور بے حیائی اور گناہ نہ کیا وہ اس دن کی طرح لوٹتا ہے جب اس کی ماں نے اسے جنا» — متفق علیہ